اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے فرزند حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کے موقع پر بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء، بعض حکام اور عوام سے خطاب میں فرمایا کہ حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت سرائي صرف باتوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ آپ کے اتحاد آفرین پیغام کو عملی شکل دینے کےلئے کوششیں ہونی چاہیں اور یہ کوششیں اسلامی ملکوں اور اسلامی قوموں کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیں۔
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امت اسلامی کے مفادات اور عالم اسلام کے اتحاد پر توجہ مرکوز رکھنے سے اسلامی ملکوں کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔
آپ نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے سامراج اور عالمی صیہونیت کے مہلک سرطانی پھوڑے بالخصوص امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کے مقابل ڈٹ جائيں اور ایک دوسرے سے مہربانی اور ہمدلی سے پیش آئیں۔
رہبرانقلاب اسلامی نے اسلام دشمنوں کی تفرقہ انگيز سازشوں کی کامیابی پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان قومیں اپنے عظیم وسائل و ذرائع اور اپنی منفرد خصوصیات کے ساتھ جزئي مسائل سے ہٹ کر کلی مسائل میں ایک دل اور ایک زبان ہوجائيں تو ان کی ترقی اور کمال کی ضمانت دی جاسکتی ہے اور عالمی سطح پر ان کا متحد اور ایک زبان ہونا پیغمبر اسلام کے شرف انکی سربلندی اور عظمت کا سبب ہوگا۔
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت العظمی خامنہ ای نے عالم اسلام کے اتحاد کے اسباب و عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بدگمانی ختم کرنا اور شیعہ اور سنی فرقوں کا ایک دوسرے کی توہین سے پرہیز کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
آپ نے فرمایا کہ وہ شیعہ گروہ جو برطانوی جاسوس ادارے MI6 سے جڑا ہے اور وہ سنی گروہ جو امریکہ کی سی آئي اے کا آلہ کار ہے دونوں اسلام اور پیغمبر اسلام کے مخالف ہیں۔
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ علاقے کے بعض ملکوں کی خارجہ پالیسی میں ایران کی مخالفت پر تاکید بڑی غلطی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایران نے ان پالیسیوں کے برخلاف اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد اسلامی ملکوں منجملہ علاقائي ملکوں کے ساتھ دوستی پر رکھی ہے اور اسی پالیسی پر عمل کرتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲